المیہ
Poet: Tariq Butt By: Gul Bose, Karachiتھے کیا کیا نہ خوابوں کے موتی سنبھالے
کہ تعبیر کا کوئی دھاگہ ملا
تو پروئیں گے مالا
پہن لیں گے اور
شاد و فرحاں پھریں گے
ہوا کی طرح رقص کرتے ہوئے
جھومتے، گیت گاتےہوئے
اپنی ہستی کی مستی کی لہروں میں
ہم زندگی اب کریں گے
مگر سب تھا بیکار
کچھ بھی نہیں تھا
نہ خوبوں کے موتی، نہ دھاگہ نہ مالا
بچا کچھ نہیں ہے
گزرتا ہوا وقت
گرتے ہوئے دانہ دانہ یہ لمحے
پروئی گئی کوئی مالا نہ ہم سے
کہ تسبیحِ ایام کرتے
گزرتے ہوئے روز و شب کوئی ہی گنتے
کوئی زندگی کی علامت تو ہو
کس طرح سے جئیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






