لو جا رہا ہے ہمیں روتا چھوڑ کر رمضاں
نہ کر سکے تیری افسوس، ہم قدر رمضاں
یہ بات سچ ہے ترے آنے سے بہت خوش تھے
یہ رو رہے ہیں نا جتنے بھی پھوٹ کر رمضاں
عبادتوں پہ کمر کس لی خوش نصیبوں نے
میں سوتا ہی رہا غفلت میں جان کر رمضاں
نماز بھی نہ میں پڑھ پایا سب جماعت سے
جو روزے رکھے بھی، سارے تھے بے اثر، رمضاں
میں نیکیوں کی طرف اب تلک نہیں آیا
حالانکہ ہوگئی چالیس کی عمر رمضاں
اگر تو راضی نہیں ہائے میری بربادی
کہاں پہ جائونگا منہ تجھ سے پھیر کر رمضاں
خدا کے واسطہ ہم سے تو راضی ہو کر جا
کریم دَر سے تو آیا ہے کرم کر رمضاں
نجانے اگلے برس تجھ سے ہم ملیں نہ ملیں
تیرا تو آنا مقدر ہے تا حشر رمضاں
حشر کے روز تو نیکوں کا جب بنے گا شفیع
نہ بھول جانا یہ بندۂ بے ہنر رمضاں
الہی واسطہ پیارے کا ہر برس دیکھے
مدینے پاک میں ریحان معتبرؔ رمضاں