انتخاب درد حصہ دوم
Poet: Khawaja Mir Dard By: Bakhtiar Nasir, Lahoreاوروں سے تو ہنستے ہو نظروں سے ملا نظریں
ادھر کو نظر کوئی پھینکی بھی تو دزدیدہ
کیا کہوں تجھ سے ہمنشین دل میں
برچھی سی لگتی ہے وہ ترچھی نگاہ
پگھلا تمہارا دل نہ میرے حال پر کبھی
ہر چند روتے روتے میں نے نالے بہا دئیے
سیلاب اشک گرم نے اعضا میرے تمام
اے درد! کچھ بہا دئیے اور کچھ جلا دئیے
جفا و جور اٹھانے پڑے زمانے کے
ہوس تھی جی میں کسو ناز کے اٹھانے کے
وہ اشک نکلتا ہے میری چشم سے جس کا
ہر قطرہ کم ازپارہ الماس نہیں ہے
جفا و جور تو ظالم سبھی گوارہ ہیں
مگر یہ رسم جدائی ہے ناگوار مجھے
وہ سرخ لباس اس کے گلے میں نظر آیا
جس کے ہیں میرے دل میں پڑے اب تئیں چھالے
جی کی جی میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی
حیف ہے اس سے ملاقات نہ ہونے پائی
دید وا دید ہوئی دور سے میرے اسکی
پر جو میں چاہا تھا سو بات نہ ہونے پائی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






