انہیں دیکھنے کی اس لئے جسارت نہیں کرتا
Poet: A. Sahil By: Azmat Ullah Sahil, Lahoreانہیں دیکھنے کی اس لئے جسارت نہیں کرتا
کیونکہ اب اشک ، چشم کی طہارت نہیں کرتا
جب سے دیکھا ہے بچہ کوڑے سے کھانا چنتے
میں کچھ بھی کھانے سے , حقارت نہیں کرتا
ہمارا حاکم جو غریبوں کے خوں پہ نادم ہوتا
توں قاتلوں کے جتھے کی صدارت نہیں کرتا
گر میری آبلہ پائی کا کچھ خیال کرتا وہ
تو سکونِ منزل، سر منزل غارت نہیں کرتا
میں جس شخص کی شہء پہ بے موت مارا گیا
وہ تو میرے مرقد کی بھی زیارت نہیں کرتا
اسے کہنا کہ کوئی اور نیا ڈھونڈ لے گاہک
کہ ساحل اب دردوں کی تجارت نہیں کرتا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






