اور محسوس ہوتا ہے
Poet: Samreen Zaidi By: Samreen Zaidi, Karachiشام ڈھلے پچھلے پہر میں
آنگن میں اک پیڑ تلے
میں آنکھیں موندے بیٹھی ہوں
چہار سو بکھرے
پتوں کی آہٹ
میرے کان میں سرگوشیاں کرتی ہے
اور محسوس ہوتا ہے
جیسے لمحہ موجود میں
کوئی ساتھ ہے میرے
ہوا میں بسی پھولوں کی باس
اور
چہکتے پرندوں کے ساز
اک انوکھی کہانی سناتے ہیں
اور محسوس ہوتا ہے
جیسے لمحہ موجود میں
کوئی ساتھ ہے میرے
فضا میں بکھرا
عجب سا فسوں ہے
نہ ہی خامشی نہ ہی غل ہے
لگتا ہے پھر بھی کوئی اس میں مخل ہے
اور محسوس ہوتا ہے
جیسے لمحہ موجود میں
کوئی ساتھ ہے میرے
اک ردھم سا ہے زندگی میں
خیالوں کی بارات اتری ہو جیسے
اور چہرے پہ مسکان سجائے
میں سوچتی ہوں
کہ میں بھی تو ہوں اسی نگر میں
اور محسوس ہوتا ہے
جیسے لمحہ موجود میں
کوئی ساتھ ہے میرے
کوئی
پاس ہے میرے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






