اِک ادا سے آئے گا بہلائے گا لے جائے گا
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہاِک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا
پاؤں میں زنجِیر سی پہنائے گا، لے جائے گا
میں نے اُس کے نام کر ڈالی متاعِ زِندگی
اب یہاں سے اُٹھ کے وُہ جب جائے گا لے جائے گا
کل نئی گاڑی خرِیدی ہے مِرے اِک دوست نے
سب سے پہلے تو مُجھے دِکھلائے گا لے جائے گا
میں بڑا مُجرم ہُوں مُجھ کو ضابطوں کا ہے خیال
ہتھکڑی اِک سنتری پہنائے گا، لے جائے گا
میری چِیزوں میں سے اُس کو جو پسند آیا کبھی
چِھین لے گا چِیز پِھر مُسکائے گا، لے جائے گا
شاعری رکھ دی ہے میں نے کم نظر لوگوں کے بِیچ
دوستو وہ مِہرباں بھی آئے گا، لے جائے گا
اپنی بِیوی کے بِنا کِس کا گُزارا ہے یہاں
دیکھنا، داماد جی پچھتائے گا، لے جائے گا
سر میں چاندی تار لے کر ایک لڑکی نے کہا
کیا کوئی اب بھی مُجھے اپنائے گا، لے جائے گا؟؟
دیکھنا کُوڑے میں سڑتا باسی کھانا بھی رشِیدؔ
ننھا سا مجبُور بچّہ کھائے گا، لے جائے گا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






