اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے

Poet: خالد حمید By: خالد حمید, Quetta

اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
بے ٹھکانہ ہوں ازل سے مجھے گھر جانے دے

سُوئے بطحا لئے جاتی ہے ہوائے بطحا
بوئے دنیا مجھے گمراہ نہ کر جانے دے

تیری صورت کی طرف دیکھ رہا ہوں آقا
پتلیوں کو اِسی مرکز پہ ٹھہر جانے دے

زندگی! گنبدِ خضرٰی ہی تو منزل ہے مری
مجھ کو ہریالیوں میں خاک بسر جانے دے

موت پر میری شہیدوں کو بھی رشک آئے گا
اپنے قدموں سے لپٹ کر مجھے مر جانے دے

خواہشِ ذات بہت ساتھ دیا ہے تیرا
اب جدھر میرے مُحَمّدﷺ ہیں اُدھر جانے دے

روک رضواں نہ مظفؔر کو درِ جنت پر
یہ مُحَمّدﷺ کا ہے منظورِ نظر جانے دے

Rate it:
Views: 2066
22 Jul, 2022