اپنے وطن سے دور بیٹھے اپنی یہ عید گزاریں گے
Poet: mohammed masood By: mohammed masood , meadows nottingham ukاپنے وطن سے دور بیٹھے اپنی یہ عید گزاریں گے
کیا کہیں کیا بتائیں کیسے اپنی یہ عید گزاریں گے
اپنی بستی کا ہر چہرہ گھوم رہا ہے اپنی آنکھوں میں
دَھندلی دَھندلی یادوں میں اپنی یہ عید گزاریں گے
جس طرف بھی اَٹھے نظر صورتیں ہوں گی آگاہیوں کی
بھیچ ہجوم میں بھی تنہا اپنی یہ عید گزاریں گے
ہم سَخن ہم زباں ہم نو کوئ نہ ہو گا یہاں
گَن گیے بہاروں کی طرح اپنی یہ عید گزاریں گے
خوشی خوشی لوٹیں گے لوگ اپنے گھروں کو
ہم پردیس کی اس سہرا میں اپنی یہ عید گزاریں گے
اب نہیں تو اَگلی بار چلے چلیں گے اپنوں میں ہم
اس آس کے سہارے ہی اپنی یہ عید گزاریں گے
مسعود آج کے دن مت چھڑو گلشن اس فسانے کو
ایسے ہی گزرنی یہ عید اپنی یہ عید گزاریں گے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






