اک اجنبی دیار میں گم صم سی بیٹھی رہتی ہوں
Poet: UA By: UA, Lahoreاک اجنبی دیار میں گم صم سی بیٹھی رہتی ہوں
نہ جانے کس کے خیال میں گم بیٹھی رہتی ہوں
اک دائرے سے دوسرے دائرے کے درمیاں
محصور اک حصار میں چپ بیٹھی رہتی ہوں
میں رنگ برنگے اجنبی چہروں کے درمیان
ہر دم کسی کی یاد میں گم بیٹھی رہتی ہوں
میرا وجود در بدر بھٹکتا پھرتا رہتا ہے مگر
میں اپنی روح کو لیکر اک جگہ پہ بیٹھی رہتی ہوں
میری نظروں کے دائروں میں وسعتیں ٹھہر گئیں
مرکز دل کو نظروں میں سمائے بیٹھی رہتی ہوں
جب تک وہ میرے خوابوں میں آ نہیں جاتے
خمار شب کو آنکھوں سے لگائے بیٹھی رہتی ہوں
تخیلات کی گرفت سے آزاد ہونے تک
دامن دل میں آرزو دبائے بیٹھی رہتی ہوں
میں انتظار کی دہلیز پہ ہر شام ہی عظمٰی
دیے کی لو کو ہوا سے بچائے بیٹھی رہتی ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






