اک انجا نا رستا۔۔۔۔
Poet: Samreen Akram By: Samreen Akram, Riyadh,Saudi Arabia آ ج اس راستے سے پھر میرا گزر ہوا
آ ج ان را ہوں میں پھر میرا زکر ہوا
نا جا نے کہاں سے پھر وہی صدا آئی
ہوا تھی کے نا جا نے کون مسکرائی
پلٹ کر لوٹا جب میں اس جا نب تو
خاموشی کا احساس ہوا
میں نے پو چھا کون ہو تم تو
گنگنانے کی آواز آئی
پتھر کنکر سب چپ تھے پھر بھی
سدا دے رھے تھے انجا نے پھر بھی
چھوڑ چکا تھا میں اس اجاڑ رستے کو
پلٹ کر نہیں دیکھوں گا اس بیابان رستے کو
پر اب جاتا ھوں وہاں اپنے غم بہلانے
اس حسین سما کو اس انجانی سدا کو بلانے
اب شاید وہ آواز مجھے سنائی نھیں دیتی
لاکھ دیتا ھوں سدایں پر دیکھائ نھیں دیتی
لگتا ھے وہ رو ٹھ کر جا چکی ہے
سارے رشتے سارے ناتے توڑ کر جاچکی ہے
میں آج بھی وہیں بیٹھا اس کا انتظار کرتا ھوں
اس اندیکھے احساس سے میں بہت پیار کرتا ھوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






