ایسا نغمہ ہے جس میں صدا تک نہیں ایسی آندھی ہے جس میں ہوا تک نہیں
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIایسا نغمہ ہے جس میں صدا تک نہیں ایسی آندھی ہے جس میں ہوا تک نہیں
زندگی کی طرح جاوداں بیکراں اتنے مجبور جتنی فضا تک نہیں
چلتے مضمونوں کے نوٹس اور ترجمے اُجلے شو کیس میں سج گئے ٹھیک ہے
کیوں دکاندار رکھے کتابِ ادب اسے اب کوئی پوچھتا نہیں
اک سمندر کے پیاسے کنارے تھے ہم اپنا پیغام لاتی تھی موج رواں
آج دو ریل کی پیڑیوں کی طرح ساتھ چلنا ہے اور بولنا تک نہیں
رات کا کالا جادو ہے زُلف میں اپنے چہرے پہ سو رج کا چہرا رکھو
تیز نظموں سے لوگوں پہ حملہ کرو، یوں کسی کو کوئی پوچھتا تک نہیں
زعفرانی رنگ کے گیسوؤں کی گھٹا آسمانی رنگ کے کوٹ پہ چھا گئی
نرم یادوں کے اجلے فرشتوں کے پر دودھیا خاموشی اور ہوا تک نہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






