ایک بھولی سی صدا ہوں ۔۔ ۔ ۔۔
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanایک بھولی سی صدا ہوں یاد نہ آؤں تو کیا
میں جو آؤں بھی تو کیا اور لوٹ بھی جاؤں تو کیا
بے اثر سنگیت میرا ، بے اثر میرے سخن
تیری محفل میں ترانے پیار کے گاؤں تو کیا
آرزو کب سے بہار نو کی ہے مجھ کو مگر
خار جب ٹھہرے مقدر باغ مہکاؤں تو کیا
ایک مدت سے کسی کی جستجو میں ہے سفر
دل تو گھائل ہے جو گھائل ہو گئے پاؤں تو کیا
جب حقیقت تلخیاں لے آئی میرے سامنے
اپنی آنکھوں کو سہانے خواب دکھلا ؤں تو کیا
نا امیدی کے سوا اب زیست میں کچھ بھی نہیں
دل بہلتا ہی نہیں اس دل کو بہلا ؤں تو کیا
بھولنے کی کوششیں کچھ کام نہ یوں آئیں گی
جام اس کی یاد میں ہر شام چھلکاؤں تو کیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






