ایک ہی چہرہ میری ہر ڈگر میں رہتا ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadاب تو ہر لمحہ وہ حصارِ نظر میں رہتا ہے
اُجالے کی طرح شام و سحر میں رہتا ہے
یہ معجزہ ء عشق ہے کہ جہاں دیکھوں
ایک ہی چہرہ میری ہر ڈگر میں رہتا ہے
کوئی شب ، شب ہی نہیں اس کے بغیر
وہ میرے دن کے پہر پہر میں رہتا ہے
تیر ی ٹھوکر سے بے ٹھکانہ کیا ہو گا رضا
سنگِ راہ تو عمر بھر رہگذر میں رہتا ہے
کس طرح ڈالے وہ ستاروں پہ کمندیں
طفلِ غریب تو لقمے کی فکر میں رہتا ہے
کہاں ڈھونڈتے پھرتے ہو مجھے کہ میں
وہ جوہر ہوں جو تیر ی چشمِ تر میں رہتا ہے
جب بھی ملتا ہے تو ملتا ہے اجنبی کی طرح
وہ شخص جو لہو کی طرح جگر میں رہتاہے
ربط نہ سہی مگریہ احسا س ہے جاں پرور
وہ میری نیک تمناوں کی فکر میں رہتا ہے
اُسے اُلجھنوں سے عجب سا اُنس ہے شائد
اسی لیے وہ ہمیشہ بھنور میں رہتاہے
قیمت یوں چکائی وصل کے اک لمحے کی
زندگی کا ہر لمحہ اب کہ ہجر میں رہتا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






