اے جانیوالے تیری وجہ سے ہمارا دل اضطراب میں ہے
Poet: ریحان مُعتبرؔ By: Rehan Singapuri, Karachiاے جانیوالے تیری وجہ سے ہمارا دل اضطراب میں ہے
ہمارے ہمدم بھی کہہ رہے ہیں کہ بہتری اجتناب میں ہے
تھا چاند جیسا تمھارا چہرہ، تھا کتنا پاکیزہ تیرا لہجہ
کہ جب مِلے تھے وہ ایک لمحہ، کیوں آج تک میرے خواب میں ہے
وہ بند ہونٹوں میں ہنسنا تیرا، وہ دیکھ کر یوں سمٹنا تیرا
وہ نیچی نظریں سنبھل کے چلنا کہ جیسے ناؤ سَراب میں ہے
یقیں نہ تھا جب میری وفا پہ، تو لوٹ کر کیوں دوبارہ آئے
یا جانچنا تھا ہمارے دل کوکہ تیرے بن کس عذاب میں ہے
بنا کے رکھا تھا خود کو پتھر، نہیں تو مر جاتے ہم بکھر کر
ُجدا دوبارہ سے ہوکے دِلبر یوں جینا پھر کس کی تاب میں ہے
تم آئے کرنے تھے ہم کو ویراں، ہمارے اخلاق سے ہو حیراں ؟؟
ضیاء تمھاری ہی تھی کہ اپنا شمار اب آفتاب میں ہے
نشانیاں ُتو نے جو تھیں بخشی، وہ اب تلک ہے سنبھال رکھی
جو معتبرؔ کو دیا تھا تُو نے، وہ پھول اب تک کتاب میں ہے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






