باتیں تو بہت سی ہیں لیکن ہر بات کہی نہیں جاتی
Poet: UA By: UA, Lahoreباتیں تو بہت سی ہیں لیکن ہر بات کہی نہیں جاتی
لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر ہر بات لکھی نہیں جاتی
ہزاروں خواہشیں دل میں جنم لیتی ہیں اور مٹ جاتی ہیں
ہونے کو ہو جائے لیکن ہر خواہش پوری کی نہیں جاتی
کوئی کتنا ہی دریا دل کوئی کتنا ہی سخی کیوں نہ ہو
ہر اک شے اپنی کسی کو مگر دے دی نہیں جاتی
بدل ڈال خود کو ہم نے بہت حالات کے آگے
مگر ایک ایسی عادت ہے کہ جو بدلی نہیں جاتی
اگر دل میں اتر جائے تو جو چاہے جتن کر لو
جنوں کی ایسی حالت ہے کہ جو سدھری نہیں جاتی
یہ ہی دیوانوں کا دعوٰی یہ ہی پروانوں کا مسلک
کہ مستی جب چڑھ جاتی ہے تو پھر چھوڑی نہیں جاتی
بہت سی ان کہی باتیں ہم عظمٰی جان لیتے ہیں
مگر اک یہ کہاوت ہے کہ جو سمجھی نہیں جاتی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






