بارش
Poet: عنیزہ By: oniza, Karachiدسمبر کی وہ پہلی بارش
اور تمہارا ساتھ
مٹی کی اٹھتی وہ
دھیمی دھیمی سی خوشبوں
ہوا میں لہراتا پر مُسرت ترنم
دل میں بجتے خوشی کے گیت
ہم دونوں کے ایک ہو جانے کی وہ خوشی
ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے
وہ دیکھنا آنکھوں میں جلتے محبت کے دیپ
دلوں میں گھر کر جاتا یہ سہانہ موسم
تھوڑی روشنی اور تھوڑے اندھیرے میں
ڈوبا یہ زندگی کی حقیقت کو بیان کرتا موسم
مجھے زندگی کے سارے حسین پل یاد کرا جاتا ہے
تیری قرب میں گزاری ہر شام کو
میری آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح چلاتا ہے
دسمبر جب بھی آتا ہے
یہ خوب رولاتا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







