بن ہو، ابر ہو، تیز ہوا ہو
Poet: Ahmed Nadeem Qasmi By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIبن ہو، ابر ہو، تیز ہوا ہو
تیرے حُسن کا دِیا جلا ہو
پو بھی پھٹی، طوفان بھی اُٹھا
اب کوئی کیا جانے کیا ہو
آج کی کلیاں کب چٹکیں گی
شاید مستقبل کو پتا ہو
چاند بھی ساکن، وقت بھی ساکن
شاید توُ کچھ سوچ رہا ہو
پت جھڑ میں کیوں پھوُل نہ ڈھونڈے
جس نے تجھے کھو کر پایا ہو
بیلیں سی بَل کھاتی ہیں جب
کوئی سہارا ٹوٹ چلا ہو
توُ نے یوُں شرما کر دیکھا
جیسے تھک کر دِیا بُجھا ہو
میری تنہائی کی دُعا ہے
تیرے ساتھ بھری دُنیا ہو
وقتِ سحر یوُں کلیاں چٹکیں
جیسے تیرا نام لیا ہو
انساں کا معیار یہی ہے
خُوب دُکھی ہو، خُوب اچھا ہو
دِیے بُجھے ہیں، پھوُل کھِلے ہیں
شاید یہ شاہراہِ صبا ہو
تو کہتا ہے تارا ٹوُٹا
اور اگر آنسوُ ٹپکا ہو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






