بڑی ترتیب رکھتے ہو
Poet: اجالا شیخ By: اجالا شیخ, Karachiبڑی ترتیب رکھتے ہو
سنو میں بکھری بیٹھی ہوں
سنو میں اب بھی ویسی ہوں
سنو تو یوں سناؤں میں
کبھی اک مان تھا ٹوٹا
سبھی تو جانتے ہو تم
بڑی ترتیب رکھتے ہو
کیا مجھ کو جوڑ پاؤ گے؟
یا پھر سے ٹوڑ ڈالو گے؟
کہو کیا کم اذیت ہے؟
کیسی کو اس طرح چاہنا؟
کہ منہ بھی موڑ نا پانا؟
خود ہی الزام سہ لینا؟
خود ہی خاموش ہو جانا؟
کبھی رسوا نہیں کرنا؟
محظ رسوا ہو جانا؟
بڑی ترتیب رکھتے ہو
چلو اتنا بتاؤ تم
کبھی سوچا بھی ہے تم نے
کہ اتنی رنجشوں کو میں
بھلا کیسے سنبھالوں گی؟
کہ اتنے فاصلوں کو میں
بھلا کیسے مٹائوں گی؟
وہ جو ایک خاص رستہ تھا
ہاں اسی خاص منزل کا
فقط اب خاک و بستہ ہے
بڑی ترتیب رکھتے ہو
اگر پھر لوٹنا چاہو
تو ایک وعدہ زرہ کرنا
کہ جب تم چھوڑ جاؤ گے
یا پھر سے توڑ جاؤ گے
سنو پھر جوڑنے آنا
بڑی ترتیب رکھتے ہو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







