بڑی ہی چاہ سے دلہن بنی تھی میں ہائے ( گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanپیا کی راہ تکوں دل یہ ڈوبتا جائے
مایوسیوں کے ہر اک سمت بڑھ گئے سائے
کیا تھا جن کے لیے میں نے آج سولہ سنگھار
تھا جن کے قدموں کی آہٹ کا شام سے انتظار
لو رات بیت گئی وہ مگر نہیں آئے
مایوسیوں کے ہر اک سمت بڑھ گئے سائے
سہاگ رات تھی یا غم کی رات تھی کوئی
مرے لیے نہ وفا کی سوغات تھی کوئی
ستم بتا مری تقدیر مجھ پہ کیوں ڈھائے
مایوسیوں کے ہر اک سمت بڑھ گئے سائے
انوکھے درد لیے یہ نئی سحر آئی
خموش لب ہیں مگر آنکھ میری بھر آئی
کروں میں کیا مرا دل بار بار گھبرائے
مایوسیوں کے ہر اک سمت بڑھ گئے سائے
سہیلیوں کو نہ بابل کو کچھ بتاؤں گی
مگر یہ درد بھلا کس طرح چھپاؤں گی
بڑی ہی چاہ سے دلہن بنی تھی میں ہائے
مایوسیوں کے ہر اک سمت بڑھ گئے سائے
پیا کی راہ تکوں دل یہ ڈوبتا جائے
مایوسیوں کے ہر اک سمت بڑھ گئے سائے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







