بیٹھ گئے
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quettaگلاب چہرہ بہاروں میں آ کے بیٹھ گئے
عدو کے حربے سہاروں میں آ کے بیٹھ گئے
لکھے ہوئے ہیں جو ارمان پڑھ تو سکتے ہو
کہ سب یہ نان کے پاروں میں آ کے بیٹھ گئے
یہ ماہ و مہر بھی، یہ کہکشاں بھی دھوکہ ہے
کہ جگنو آنکھ کناروں میں آ کے بیٹھ گئے
امیرِ شہر نے فیضان کا کِیا اعلاں
غنی بھی عرض گزاروں میں آ کے بیٹھ گئے
کوئی تو دستِ صبا پر پیامِ دل ہی کھلے
پرندِ عشق قطاروں میں آ کے بیٹھ گئے
بسے ہیں آنکھ کے حلقے میں جگنووں کے جھنڈ
کہ شاہ زادے حصاروں میں آ کے بیٹھ کئے
ترنگ بوندوں میں کیسی؟ فضا میں نقش و نگار
سُرور ٹھنڈی پھواروں میں آ کے بیٹھ گئے
نگر میں جب سے ہؤا راج سرد مہری کا
وفا شعار یہ غاروں میں آ کے بیٹھ گئے
رشیدؔ دھونی بنانے لگی ہے مرغولے
مجاور آج مزاروں میں آ کے بیٹھ گئے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






