بے شک
Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal, Gujranwala لاپرواہ ہو جانا ، میرے جذبوں کی
سچائی کے باوجود
بے شک بھنور میں اکیلا چھوڑ دینا
خود کشتی کے سوار رہنا
بے شک میرا ہو کے کسی اور کو چاہنا
بے شک گھنے پیڑوں کی چھاؤں میں
خود بیٹھنا
مجھے جھلستی دھوپ میں تنہاچھوڑ دینا
بے شک طوفانوں کی تند تیز موجوں کے
مجھے روبرو کر کے خود ہٹ جانا
بے شک زمانے کی گردش ایام میں
پسنے دین
بے شک میرے احساسات کو پامال کر دینا
بے شک میری اطاعت کے باوجود تم
سرد مہر بن جان
بے شک محبتوں کی قیمت وصول کرنا
اور خود غرض ہو جان
بے شک میرے دل کو اپنی جفاؤں کے
صدمے سے پاش پاش کر دین
بے شک میری التجاؤں کو ٹھکرا دینا
رشتوں کی بھینٹ چڑھنے دین
بے شک اپنے قدموں کی خاک بنا کر
روند ڈالنا، بے نشان کر دین
بے شک اپنی بے اعتنائیوں سے میری
ذات کو ریزہ ریزہ کر دین
بے شک کرب و الم کی بھٹی میں
جھونک دین
مگر! سن اے جان شاہین
میرے الفاظ کے تقدس کو پامال مت کرن
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






