بے نام سے رشتہ پہ الزام تو آنا تھا
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadبے نام سے رشتہ پہ الزام تو آنا تھا
خواہش کو میرے دل کی چپ چاپ دبانا تھا
رکھے ہوتے لفافے میں بند پیار کے افسانے
کیوں دل کے محرم کو میرا حال سنانا تھا
ان پیار کے جذبوں کو سمجھے گا کوئی کیسے
اس آگ کے دریا میں بس ڈوب ہی جانا تھا
بدنام تو ہونا تھا محفل کا تقاضہ تھا
گستاخ نگاہوں کو ایک بار بتانا تھا
نکل آئے نہ پھر تاریک اندھیروں سے
محبت کے جذبے کو اس طرح دبانا تھا
پھر شوق سے کر جاتے سمندر کے حوالے
ریت پہ ساحل کی تمھیں گھر ایک بنانا تھا
اسے چھوڑ کے جانے کا غم مجھ کو بھی تھا ساجد
پاس میرے مگر کوئی بھی خاص بہانہ تھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






