تابہ نظر ایک شہر خموشاں ہے
Poet: محمد مسعود نونٹگھم یو کے By: Mohammed Masood, Nottinghamتابہ نظر ایک شہر خموشاں ہے
کُچھ طائروں کی صدائیں ہیں یسین کا وردھ
اور اگر بتیوں کی ہے خوشبو
کہیں تازہ قبروں پہ تازہ گلابوں کے کُچھ ہار ہیں
ایک تھکا ہارہ حالات کا سخت مارا
کوئی نوجوان رو رہا ہے
سنو میری پیاری ماں
اپنے آنگن میں برگد کا جو پیڑ تھا
جس کے سائے میں ایک چار پائی پہ تو بیٹھ کر
خالقِ دو جہان کی ثناُء کرتی رہتی تھی وہ کٹ گیا
صحن کے بیچ میں اب ایک دیوار ہے
گھر ہی کیا گھر میں جو کچھ بھی تھا
بھائیوں اور بہنوں میں سب کُچھ بٹ گیا
میرے حصے میں تیری محبت ہے ماں
تیری دُعائیں ہیں ماں
اور مہرباں لمس کی مہرباں یادیں ہیں
میرا سر گود میں رکھ کہ مُدت ہوئی
ایک لمحہ بھی شب بھر میں سویا نہیں
تو خفا ہو گی مُجھ سے یہی سوچ کر
بس سلگتا رہا اور رویا نہیں
اپنی مرحومہ والدہ محترمہ کے نام
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






