تاروں کی گونج
Poet: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے By: Mohammed Masood, Nottinghamاندھیروں میں لپٹا ہوا، اک خاموش آسمان،
جہاں تنہا چاند بھی رکھتا ہے اپنی آن۔
کروڑوں سال کی باتیں، ستاروں کی زبان میں،
کوئی سُنتا نہیں لیکن، ہے ہر سو یہ بیان۔
ہماری زندگی بھی اک پل کا ہے لمحہ،
اُسی بے کراں وسعت میں، اک ٹوٹا ہوا قطرہ۔
مگر اس قطرے میں بھی، سمندر کا ہے احساس،
کہ روحِ کائنات کا ہے ہم سے گہرا رشتہ۔
فلک سے دیکھتے ہیں جب، نیچے کی اس دنیا کو،
تو ہر بستی، ہر منزل، ہے اک بھولی ہوئی پہیلی۔
مسافر راہ میں گم ہیں، کہاں جانا، نہیں معلوم،
مگر اس جستجو میں ہی، ہر سانس ہوئی اکیلی۔
جو لمحہ آج ہے حاصل، یہی ہے اصل حقیقت،
نہ ماضی کی قید کوئی، نہ کل کی کوئی وحشت۔
خدا کے نور کی پرچھائیں، ہمارے دل میں رہتی ہے،
یہی پیغامِ فطرت ہے، یہی ہے اصل کی نُصرت۔
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






