تشنہ لبوں کی قربانی
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam ShabbiR Rana, Jhang City (Punjab -Pakistan)تشنہ لب دے گئے ہیں قربانی
دین کو جبر سے نجات ملی
کہہ گئے کلمہ حق زیر تیغ مردان حق پرست کربلا میں
اپنے جگر گوشوں کے خون سے
شجر اسلام کی آبیاری کر کے
سرخرو ہو گئے اپنے خالق کے حضور نواسہء رسول کے سب جانثار
درس یہ کربلا سے ملتا ہے
راہ حق مین جو جان دیتے ہیں
نوع انساں کی نجات کے ضامن بن جاتے ہیں
اس کا صلہ خدا سے ملتا ہے
امام حسین کی قربانی
دس محرم اکسٹھ ہجری عصر کے وقت
استبدادی قوت کے سارے رعونت کے دعوے
پل بھر میں پامال ہوئے
شیر خدا کے بیٹے نے جبر کا ہر انداز ٹھکرا کر
ظالم و سفاک استحصالی عناصر کے سب کس بل نکال دیئے
ظلم و جور کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کا
عزم صمیم کر کے ابن حیدر نے
صحرا میں وہ پھول اگائے جو ابد تک
ذہنوں کو کو معطر کرتے رہیں گے
خون جگر سے پھر ان کو سیراب کیا
دل کے ٹکڑئے دے کر ان کو تابانی دی
ازلی اورابدی صداقتوں کے امیں تھے سب جانثار
جبر کے ایوانوں کو سب نے مل کر یوں مسمار کیا
ان ایوانوں میں ظلم و ستم کرنے والے
تاریک کے طوماروں میں دب گئے
حشر تک اس دنیا مین ان کا نام لیوا کوئی نہ ہو گا
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






