عہد وفا
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam ShabbiR Rana, Jhang City (Punjab -Pakistan)عہد وفا
نواسہ رسول نے اپنے خالق سے
کیے جانے والے عہد وفا کی پاسداری کی
گردش ایام تھمنے لگی
لیل و نہار زمانے کے عجب رنگ دکھانے لگے
اس اثنا میں
حسین ابن علی نے بہتر پھولوں کا نذرانہ رب کے حضور نثار کیا
اسلامی اقدار کو اپنے خون سے سینچ کے پروان چڑھایا
جبر کے سب انداز رد کر دیئے گئے
عہد وفا جو خالق سے تھا اس کو استوار کیا
قطع استبداد کیا اور ظلمت کو کافور کیا
اہل جفا کے جبر کے سب حربے ناکام ہوئے
مقام شبیری کو ایک ازلی صداقت کے طور پر دنیا نے تسلیم کیا
کوفی اور شامی پینترے بدل کر ہر دور میں آتے رہتے ہیں
ابن علی نے اس طرح کے مکر کا پردہ فاش کیا
زیر تیغ بھی کلمہ حق کا قوت سے اظہار کیا
دین اور دین پناہ بن کے شبیر نے فاسق کو فی النار کیا
مسافرہ شام
کربلا سے کوفہ تک کا سفر
اور پھر شام کے درباروں میں
بت زہرا نے یہ سارے دکھ برداشت کیے
اپنے نانا کا دین بچایا
بھائی اور بچوں کے سر نیزے پر دیکھے
حرف شکایت لب پہ نہ آیا
رب کی رضا پر راضی ہو کر
سارا گھر قربان کیا
شیر خدا کی بیٹی نے تاریخ کا ایک نیا عنوان لکھا
صبر کی ایسی مثال تا قیامت نہیں مل سکے گی
مسافرہ شام تاریخ ہر دور میں
تیرے عزم و ہمت کی تعظیم کرے گی
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






