تم انسان شناسی سیکھو۔۔۔
Poet: ShaheenMughal By: ShaheenMughal, gjn سات سمندر پار کے باسی
نہ کر بلا وجہ خود پہ طاری
اداسی
سن ! زرا غور سے سن
میں تو اپنے ہی درد کے
حصار میں گم ھوں
حالات کے تھپیڑوں پہ میرے
صبر کی کشتی ہچکولے سے
کھا رہی ھے
نہیں ھے اپنی ہی کچھ ہوش
نا کردہ گناہ کا نہ دو تم بھی
مجھے دوش
نہ باغ کا ھے پتہ
نہ بہار کی ھے خبر
نجانے کب ہو گی ؟
جان لیوا اندھیروں کی سحر
ابھی تو بس عذاب اٹھا نے
آتے ہیں
ابھی چہروں سے مجھے کب
نقاب اٹھانے آتے ہیں
خدارا!
اک التجا بھرپور ھے تم سے
کہ
یقین کی بارش میں بھیگو
تم انسان شناسی سیکھو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






