تم بھی اپنی نگاہیں اٹھا کر تو دیکھو
Poet: M,masood By: M,masood, Nottinghamتم بھی اپنی نگاہیں اٹھا کر تو دیکھو
ان آنکھوں میں آنکھیں ملا کر تو دیکھو
لوٹا دیں گے سارے زمانے کی خوشیاں
کبھی ہمیں اپنا غم ذرا بتا کر تو دیکھو
تمہیں پر لوٹا دیں گے جان اپنا ایمان ہم
دوست کبھی تو تم ہمیں آزما کر تو دیکھو
دیکھنا چلےآئیں گے عشق کی آگ پر ہم
کبھی دل سے ہم کو بلا کر تو تم دیکھو
ہو معلوم تم کو بھی کہ محبت ہے چیز کیا
ذرا ہم کو تم اپنا کبھی بنا کر تو دیکھو
غرضِ ہستی میں تو بے چینی مقدر ہو گی
درد سینے میں کوئی غیر سجا کر دیکھو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






