تمہاری یاد بھی منظر عجب دکھاتی ہے

Poet: سبطین ضیا رضوی By: سبطین ضیا رضوی, Islamabad

تمہاری یاد بھی منظر عجب دکھاتی ہے
سیاہ شب اورکبھی روشنی دکھاتی ہے۔

تمہاری ذات سے وابستہ مری ذات رہی
مرے وجود میں اب بھی وہ گنگناتی ہے

کبھی تو چاندنی شب میں مجھے نہال کرے
وہ گہری نیند سے آ کر کبھی جگاتی ہے

جو تیری کھوج میں نکلوں غبار رستوں پہ
کڑکتی دھوپ میں اکثر مجھے جلاتی ہے

مرے سکوت میں ہےگونجتی صدا تیری
اداس راہوں پہ اب بھی مجھے بلاتی ہے

کبھی جو مثلِ صبا گزرے خانہء دل سے
وہ میری زیست کےجنگل میں گل اگاتی ہے

ہزار جتن کیے اس سے جی چھڑانے کو
وہ ہے کہ دل میں مسلسل جگہ بناتی ہے

Rate it:
Views: 383
07 Dec, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL