تمہارے ہاتھوں کے لیے ایک دُعا
Poet: Wasi Shah By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIتمہارے ہاتھوں کے لیے ایک دُعا
میرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا
ایسا لگتا ہے جو یہ ہاتھ دُعا کو اُٹھیں
خود فرشتے چلے آتے ہوں زمیں کی جانب
سونپ کر مرمریں ہاتھوں کی ہتھیلی کو حنا
جو بھی مانگا ہو وہ چپ چاپ دیے جاتے ہو
میرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا
ان کی خوشبو سے معطر ہے میرا سارا وجود
انہی ہاتھوں میں میرے خواب چھپے ہیں مولا
اُنگلیاں مجھ کو محبت میں بھگو دیتی ہیں
انہی پوروں نے میرے درد چُنے ہیں مولا
ان کی رَگ رَگ میں محبت ہی محبت رکھنا
میرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا
انہی ہاتھوں کی لکیروں میں مقدر ہے میرا
یہ جو کونے میں ستارہ ہے سکندر ہے میرا
خواب سے نرم خیالوں کی طرح نازک ہیں
ان کے ہر لمس میں میرے لیے چاہت رکھنا
میرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا
میرے مولا یہ حسیں ہاتھ سلامت رکھنا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






