تو جو روٹھ گئی زندگانی سے
Poet: rahat jabeen By: Rahat jabeen, karachiکتنی یادیں تیری باتوں سے ہوئیں وابسطہ
تو جو روٹھ گئ زندگانی سے
بے سبب ہی لگا یہ الزام ہم پر
تیری اک بے وجہ کی بدگمانی سے
کیا ہمیں دیا اور کیا ہم سے چھینا ہے
نہ کیجئے گلہ کچھ اس جہان فانی سے
اپنا ہی نہ ہو سکا وہ وگر نہ ہم
جیت ہی جاتے یہ بازی آسانی سے
لا حا صل انتظار میں گزری تمام عمر
اب رہ رہے ہیں ہم یہاں بے سرو سامانی سے
ناحق ہی ہم سے ہو گئے ہیں وہ خفاخفا
دیکھا نہ جب ہم نے انہیں بے دھانی سے
بھولنا چاہوں بھی تو بھول نہ پاؤں اسے
یادیں ہیں کہ امڈتی ہیں یوں فراوانی سے
گردش ایام کو روک نہ پائے کبھی بھی ہم
وقت یوں ہی گزرتا رہا روانی سے
گر ہو سکے تو دشت میں گھر کیجئے ندا
بہتر ہی ہے اس لا دیدہ نامکانی سے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






