تو ختم جو کر چلا وہ رشتہ نبایا بھی جا سکتا تھا
Poet: Majassaf Imran By: Majassaf Imran, Gujratتو ختم جو کر چلا وہ رشتہ نبایا بھی جا سکتا تھا
بات صرف فهم کی تھی بات کو نبٹایا بھی جا سکتا تھا
شاہد کہ میں عشق میں انتہا کر گیا میرے ہم دم
اتنی خیلی عصبانی کیوں مجھے سُلجھایا بھی جا سکتا تھا
ختم میرا نہیں ہوگا کبھی افسانہ صاحب
اگر ہوئے بے زار لفظوں کو ًمِٹایا بھی جا سکتا تھا
اب جو زندگی ارزش نہ رہے اس کی وجہ ہو شما
نہیں تھی زندگی عزیز مجھے دفنایا بھی جا سکتا تھا
لفظ لفظ تیری بے وفائی کا تانا دیتا ہے مجھے
نہیں تھا چاہت کے قابل مجھے بتایا بھی جا سکتا تھا
لب سی لیئے ہم نے الگ ہی اب بَسے گی دُنیا اپنی
رہے گاگِلہ دے کہ چاہت مریضِ عشق بچایا بھی جا سکتا تھا
ہو گا تماشا کَفن میں نے جب ہو گا کیا زیب تن نفیس
روتے روتے پھر تم کہو گی جاتے جاتے اک بار مُسکرایا بھی جا سکتا تھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






