تو پاگل ہے
Poet: ABDUL WAHEED SAJID By: ABDUL WAHEED SAJID, DUNYA PUR, DISTRICT LODHRANاُسے میں پیار کرتا ہوں، وہ کہتی ہے تو پاگل ہے
میں آنکھیں چار کرتا ہوں، وہ کہتی ہے تو پاگل ہے
وہ کہتی ہے قسم لے لو تمہاری ہوں، تمہاری ہوں
میں پھر اعتبار کرتا ہوں، وہ کہتی ہے تو پاگل ہے
وہ کہتی ہے کرو وعدہ مجھے تنہا نہ چھوڑو گے
اور میں اقرار کرتا ہوں، وہ کہتی ہے تو پاگل ہے
وہ کہتی ہے سِوا میرے کسی کا خواب دیکھو گے؟
میں جب انکار کرتا ہوں، وہ کہتی ہے تو پاگل ہے
وہ کہتی ہے کہ ساجد آکے میرے رو برو بیٹھو
کبھی گفتار کرتا ہوں وہ کہتی ہے تو پاگل ہے۔
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






