تو یاد آؤں گی
Poet: Neelam Shahzadi By: Neelam Shahzadi, gujranwalaبے وفائیاں پاؤ گے
سب کو آزماؤ گے
جب چوٹ کھاؤ گے
تو یاد آؤں گی
جب تھک جاؤ گے
سب کو بولاؤ گے
کوئی سامنے نہ پاؤ گے
تو یاد آؤں گی
ایک وقت آئے گا
دل تمھیں بھلائے گا
میری تصویر دیکھائے گا
تو یاد آؤں گی
جب پہنچو گے اس ڈگر
کیسے گزرا ہے سفر
کیا بتاؤ گے مگر
جب جواب نہ دے پاؤ گے
تو یاد آؤں گی
چھوڑو نیلم یہ سب
میرے دل کا گمان ہے بس
وہ کسی بے بس کو روتے پائے گا
تو یاد آؤں گی
میں بہت یاد آؤں گی
تم کو ستاؤں گی
تیرے دل کو جگاؤں گی
جب چھپ کے آنسو بہاؤ گے
تو یاد آؤں گی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






