تیری یاد کا رقص
Poet: Syed Najam Saqi By: Syed Najam Saqi, Dubai,آج پھر ہوا تنہائی میں تیری یاد کا رقص
ان اشکوں کی سچائی میں تیری یاد کا رقص
تجھ خوبرو کی شہرت کا باعث میری تزلیل
مجھ ناچیز کی رسوائی میں تیری یاد کا رقص
اس دل کے آئینے میں عیاں تیری تصویر
ان آنکھوں کی گہرائی میں تیری یاد کا رقص
میرا ہر شعر زمانے کو بھلا لگتا ہے
میرے الفاظ کی پزیرائی میں تیری یاد کا رقص
میری ہر سوچ ہے وابسطہ تیری یادوں سے
میری ہر ٹوٹتی انگڑائی میں تیری یاد کا رقص
میرے ہونٹوں پہ نغمے رواں ہیں تیرے
میری پلکوں کی جھپکائی میں تیری یاد کا رقص
اشکوں کے سنگ ٹپکتی ہوی تیری یاد کا تسلسل
ہر بجتی ہوی شہنائی میں تیری یاد کا رقص
میرا ہر انداز زمانے سے جدا ہے سید
میری گویائی میں، بینائی میں تیری یاد کا رقص
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






