تیری یاد ہے اور ہجرِ رواں ہے جاناں
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadتیری یاد ہے اور ہجرِ رواں ہے جاناں
نگاہِ شوق میں رِم جھم کا سماں ہے جاناں
مدت سے منتظر ہیں ہجر گزیدہ آنکھیں
کچھ تو خبر دے کہ تو کہاں ہے جاناں
اک لمحہ ہی کافی ہے ہم تِشنہ لبوں کو
بیتاب نگاہوں کا یہی ارماں ہے جاناں
اے کاش برس جائے تیرے وصل کا بادل
دلِ کی زمیں کب سے ویراں ہے جاناں
تیرے ہجر کے غم میں جو لطف و مزا ہے
اور کسی غم میں وہ بات کہاں ہے جاناں
ہرشب نئےکرب ہر روزامتحاں ہے جاناں
یہ زندگی ہےمیری کہ زنداں ہے جاناں
کوئی ہےکہ رضا جو، پابند ِسلاسل نہ ہو
اسیرِجاناں نہیں تو اسیرِدوراں ہے جاناں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






