ثبت آنکھوں میں ہوا ہے جدائی کا وہ منظر
Poet: Mazhar Iqbal Samar By: Mazhar Iqbal Samar, kharian-gujratضبط بھی خوب تھا اور چپ رہا میں بھی
تنہا ہوتے ہی پھر رو پڑا میں بھی
ثبت آنکھوں میں ہوا ہے جدائی کا وہ منظر
خاموش تم تھے کچھ کہہ نہ سکا میں بھی
ذہن تک آتی نہیں میرے دل کی صدا لوگوں
ہو گیا ہوں دنیا سے اب آشنا میں بھی
کچھ دیر تو کھلا رہنے دے میخانے کو
بیتاب ساقی ہے اور ہوں پیاسا میں بھی
تیرے آنچل سے چھلکتے ہوئے شعلوں کی قسم
اپنی دیوانگی میں خود ہی جل مرا میں بھی
مظہر تعاقب میں رہے ہیں سائے تمام عمر
وہ روشنی کہاں ہے جسے ڈھونڈتا ہوں میں بھی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







