جان لیا جس نے خود کو
Poet: Mohammad shaukat mehmood By: Mohammad shaukat mehmood, Jhelumجنت ودووخ ھیں تیری خواھش کا کیا
میرا ھونا بھی توتیری خواھش ھی کاامرتھا
میں یہ سمجھا,کیوں ضروری تھاابلیس کاھونا
گرنہ ھوتایہ , توکسےدوزخ کا پتہ تھا
دے کے روح کو,مجھ پر نھیں احسان کیا
اپنی جنت کوبھی تو,تونے,کسی کودکھاناتھا
اس روح کوھی دیاتونےاختیارمیرےجنت جانےکا
ورنہ مجھے,کچھ علم نہ تھا,تیری جنت کا
روح کومیری ھیں معلوم,سب گرُاس منزل کے
ورنہ جسم میراتوباسی تھا,اس دنیا کا
دےکےنفس کودنیا , مجھےاس کاغلام کیا
بناکے روح کو مجھ کو بھی پریشان کیا
جان لیاجس نےخودکو,اس نےتجھ کوبھی جان لیا
جاناخودکوجس نےاس نےتجھ کو بھی پہچان لیا
خودکوپہچان لیاجس نے,ابلیس کوبھی,اس نےمان لیا
تیری جنت ودووخ کوسمجھا, جس نےخودکوجان لیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






