جانے کیا دل میں سوچ کے ہوتی ہے آنکھ نم
Poet: hussain nisar By: hussain nisar, karachiبیتے دنوں کی یاد میں آنسو بہائیں ہم
اگلی رفاقتوں کو کہاں بھول پائیں ہم
خوشیوں کی آرزو میں ملے غم ہی غم ہمیں
اتنا نہ ہو سکا کہ کبھی مسکرائیں ہم
جانے کیا دل میں سوچ کے ہوتی ہے آنکھ نم
دستِ دعا طلب میں تری جب اٹھائیں ہم
سوچا ہے اہتمام یہ فرقت کی رات کا
وہ آئے تو ہر گام پہ مژگاں بچھائیں ہم
دیتے ہیں لوگ دھوکا بڑے ہی خلوص سے
کس پہ کریں بھروسہ کسے آزمائیں ہم
راہیں اسی کی یاد سے منسوب ہیں نثار
آؤ کہ اپنے گھر کی طرف لوٹ جائیں ہم
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






