جب ترے غم گنوائے جائیں گے

Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوال

جب ترے غم گنوائے جائیں گے
خون کے اشک لائے جائے گے

جب لیا جائے گا وفا کا حساب
بے طرح زخم کھائے جائیں گے

جو جنوں میں کیے گئے ویران
کل وہی گھر بسائے جائیں گے

جاں نثاری کا دعوہ ہے جن کا
دشمنوں میں ہی پائے جائیں گے

جانیے کون اسے کرے گا یاد
جب اسے ہم بھلائے جائیں گے

ہو گا جب اس سے سامنا اپنا
لب پہ شکوے سجائے جائیں گے

دن وہی ہو گا جاودانی کا
دار پہ جب چڑھائے جائیں گے

ہو کہ مہجور تیری بانہوں سے
در بدر ہم پھرائے جائیں گے

اب جو ہم ہیں ہماری خلوت کے
کل لبوں سے سنائے جائیں گے

شوق اور زندگی تبہ کر کے
ہجر کے گھر اٹھائے جائیں گے

اُس گلی سے نکال کے ہم کو
ڈھول باجے بجائے جائیں گے

بے سبب بے دلی کے عالم میں
حال اپنے بُجھائے جائیں گے

جھانسے دے کر ہمیں اُمیدوں کے
دامن اپنے چھڑائے جائیں گے

ہم جو ہیں صرف داستانوں کے
منظرِ عام لائے جائیں گے

کوئی معنٰی نہیں وفاؤں کے
بس یونہی دن گنوائے جائیں گے

Rate it:
Views: 649
16 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL