جب ترے غم گنوائے جائیں گے
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالجب ترے غم گنوائے جائیں گے
خون کے اشک لائے جائے گے
جب لیا جائے گا وفا کا حساب
بے طرح زخم کھائے جائیں گے
جو جنوں میں کیے گئے ویران
کل وہی گھر بسائے جائیں گے
جاں نثاری کا دعوہ ہے جن کا
دشمنوں میں ہی پائے جائیں گے
جانیے کون اسے کرے گا یاد
جب اسے ہم بھلائے جائیں گے
ہو گا جب اس سے سامنا اپنا
لب پہ شکوے سجائے جائیں گے
دن وہی ہو گا جاودانی کا
دار پہ جب چڑھائے جائیں گے
ہو کہ مہجور تیری بانہوں سے
در بدر ہم پھرائے جائیں گے
اب جو ہم ہیں ہماری خلوت کے
کل لبوں سے سنائے جائیں گے
شوق اور زندگی تبہ کر کے
ہجر کے گھر اٹھائے جائیں گے
اُس گلی سے نکال کے ہم کو
ڈھول باجے بجائے جائیں گے
بے سبب بے دلی کے عالم میں
حال اپنے بُجھائے جائیں گے
جھانسے دے کر ہمیں اُمیدوں کے
دامن اپنے چھڑائے جائیں گے
ہم جو ہیں صرف داستانوں کے
منظرِ عام لائے جائیں گے
کوئی معنٰی نہیں وفاؤں کے
بس یونہی دن گنوائے جائیں گے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






