جب موسم رو كر پوچهيں گےاپنا پيار كہاں پر كھو بيٹهے
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreجب زيست كا سورج ڈهل جائےگ
اور چار سو اندھیرا چھائے گ
تمہيں ياد بہت ميں آؤں گی
جب درد-ے-ہجر ميں مر جاؤں گی
تم وصل کی چاه ميں تڑپو گے
تمہيں ياد بہت ميں آؤں گی
جب پنچهی قفس سے اڑ جائيں گے
اور قفس خالی ره جائے گ
تمہيں ياد بہت ميں آؤں گی
جب آس كی چاندی پهيلے گی
اور نا اميد سے هو جاؤ گے
تمہيں ياد بہت ميں آؤں گی
جب ذات ميں اپنی ڈهونڈو گے
اور ذات کو تنہا پاؤ گے
تمہيں ياد بہت ميں آؤں گی
جب چلتےچلتے راهوں پر
اكيلے تهک سے جاؤ گے
تمہيں ياد بہت ميں آؤں گی
جب خود سے رونا چاهو گے
اور پتهر سے بن جاؤ گے
تمہيں ياد بہت ميں آؤں گی
جب موسم رو كر پوچهيں گے
اپنا پيار كہاں پر كھو بيٹهے
تمہيں ياد بہت ميں آؤں گی
جب چار سو مجهے پكارو گے
پر ميں نظر نہ آؤں گی
تمہيں ياد بہت ميں آؤں گی
چيخ چيخ كر بلاؤ گے اور
پهانس سا حلق ميں اڑ جائےگ
تب تمہيں ياد بہت ميں آؤں گی...
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






