جسے دیکھ کر کبھی پکارا نہیں گیا
Poet: Naveed Ahmed Shakir By: Naveed Shakir, Faisalabadجسے دیکھ کر کبھی پکارا نہیں گیا
وہی شخص میرے دل سے سارا نہیں گیا
جو لکھا بہا دیا اُسے یا جلا دیا
کوئی خط تری طرف ہمارا نہیں گیا
تری یاد میں رہا کبھی آگ سے لڑا
جلا تو بہت ہے پر شرارا نہیں گیا
شکائت یہی کرے مرا گھر کبھی کبھی
بڑی دیر سے مجھے سنوارا نہیں گیا
سبھی چھوڑ کر گئےمجھے یاد بس یہ ہے
خدا نے دیا جو وہ سہارا نہیں گیا
ترا حق ملے تجھےاسی جستجو میں تھے
ترا قرض بھی کبھی اتارا نہیں گیا
نہ تو ہی ملا مجھے نہ تجھ سا ملا کوئی
تجھے کھو کے جو ہوا خسارا نہیں گیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






