جل رہا ہے گھر مرا تم کو دھواں کیسا لگا ؟
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKجل رہا ہے گھر مرا تم کو دھواں کیسا لگا ؟
اُٹھ رہی ہے کِس قدر آہ و فغاں کیسا لگا ؟
نفرتوں کی آگ کو بھڑکانے والو سچ کہو
جسم اپنا خاک و خوں کے درمیاں کیسا لگا ؟
زندگی کے اُونچے نیچے راستوں کو دیکھ کر
یہ زمیں کیسی لگی ، وہ آسماں کیسا لگا ؟
جم گیٔ چہرے پہ میرے دُھول گُذرے وقت کی
میری بربادی کا تم کو یہ نشاں کیسا لگا ؟
اپنے ہاتھوں سے جلا کر آج اپنا آشیاں
ڈھونڈتے پھرتے ہو اب جاۓ اماں کیسا لگا ؟
دوسروں کے درد کو تم نے نہ سمجھا تھا کبھی
آج اپنے غم کا بحرِ بے کراں کیسا لگا ؟
چھوڑ کر سب کچھ جہاں اِک روز جانا ہے ہمیں
وہ جہاں تو اور ہوگا ، یہ جہاں کیسا لگا ؟
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






