حبیب ِ داورِ کُل کی عطا غریب نوازؒ
جمالِ مولا علیؓ کی ضِیا غریب نوازؒ
فصیلِ دل پہ ہے جھنڈا لگا غریب نوازؒ
بہر سو آپ ؒ کا ڈنکا بجا غریب نوازؒ
کرامت آپؒ کی مشہور ہے زمانے میں
ہے یہ بھی سارا جہاں جانتا غریب نوازؒ
جو درپہ آتے ہیں دامن وہ بھر کے جاتے ہیں
سب ہی کو کرتے ہیں بیشک عطا غریب نوازؒ
ہوئے ہیں کافر و بے دین آپ ؒ کے قائل
وہ کام ہندہ میں آکر کیا غریب نوازؒ
مسلماں ہندہ میں لاکھوں کئے ہیں آپؒنے بھی
جب ہی آپ ؒکا چرچا ہوا غریب نوازؒ
ہے مجھ غریب کی مشکل کو آپؒنے ٹالا
سدا رہے گا یہ نعرہ میرا غریب نوازؒ
مہک ہے بزِم جہاں میں ابھی تلک جس کی
علیؓ کے باغ سے وہ گُل کھِلا غریب نوازؒ
ہمیشہ ناز مقدر پہ اپنے کر دل سے
ہے آقا تجھ کو بھی اعظم مِلا غریب نوازؒ