جن کے کاندھے گھر کا بوجھ اٹھاتے ہیں
Poet: محمد افضال عاطر By: محمد افضال عاطر, Pasrurجن کے کاندھے گھر کا بوجھ اٹھاتے ہیں
وقت سے پہلے وہ بوڑھے ہو جاتے ہیں
کچی عمر میں ہو جاتی ہے پختہ سوچ
ذہن زمانے کی جب ٹھوکر کھاتے ہیں
کتب، کھلونے، چھن جاتے ہیں جب حالات
ننھے ہاتھوں میں اوزار تھماتے ہیں
کچرے سے روٹی چنتے مفلس سے پوچھ
کیسے وہ اس پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں
تم نے کیسی آس لگا لی ہے ہم سے
پھول کبھی بلبل کے پیچھے جاتے ہیں
شک کی ٹھوکر کرچی کرچی کر دے گی
کانچ سے نازک یارو رشتے ناتے ہیں
دل نگری میں یاد تری یوں آتی ہے
جیسے پنچھی شام ڈھلے گھر آتے ہیں
اس دنیا میں کیسے جیتے ہیں عاطر
تلخ حقائق ہی تو یہ سکھلاتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






