جو سننے آیا تھا وہ سنا بھی نہیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaجو سننے آیا تھا وہ سنا بھی نہیں
جو کہنا تھا ُاس نے وہ کہا بھی نہیں
زندگی پھر تیز رفتار سے چل پڑی جیسے
مدت سے کوئی ُاس کے لیے رکا بھی نہیں
پلکوں میں سے گرا تھا اچانک اک اشک
ُاس زمیں پر جہاں کوئی صحرا بھی نہیں
ملن ہو گا - یا پھر یوہی بچھڑ جایئں گے
اب تو دعائیں ہی ہیں دوسرا کوئی اصرا بھی نہیں
آسمان پر دیکھا تو سورج کی تپش محوس ہوئی
دہاین خود پر دیا تو راکھ کے سوا کچھ بھی نہیں
کیا چھوڑ دیں - یہ دنیا - دنیا میں رہ کر
جبکہ سب ہی پرائے نکلے کوئی اپنا بھی نہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






