جو گھر سے دور ہوتے ہیں
Poet: Rose anmol By: ROSE Anmol, Sargodhaجو گھر سے دور ہوتے ہیں
بہت مجبور ہوتے ہیں
کبھی باغوں میں سوتے ہیں
کبھی چھپ چھپ کے روتے ہیں
گھروں کو یاد کرتے ہیں
تو پھر فریاد کرتے ہیں
مگر جو بے سہارا ہوں
گھروں سے بے کنارہ ہوں
انہیں گھر کون دیتا ہے
یہ خطرہ کون لیتا ہے
بڑی مشکل سے اک کمرہ
جہاں کوئی نہ ہو رہتا
نگر سے پار ملتا ہے
بہت بے کار ملتا ہے
تو پھر دو چار ہم جیسے
ملا لیتے ہیں سب پیسے
اور آپس میں یہ کہتے ہیں
کہ مل جل کر ہی رہتے ہیں
کوئی کھانا بنائے گا
کوئی جھاڑو لگائے گا
کوئی دھوئے گا سب کپڑے
تو رہ لیں گے بڑے سکھ سے
مگر گرمی بھری راتیں
تپش آلود سوغاتیں
اور اوپر سے عجب کمرہ
گھٹن اور حبس کا پہرہ
تھکن سے چور ہوتے ہیں
سکوں سے دور ہوتے ہیں
بہت جی چاہتا ہے تب
کہ ماں کو بھیج دے یا ربّ
جو اپنی گود میں لے کر
ہمیں ٹھنڈی ہوا دے کر
سلا دے نیند کچھ ایسی
کہ ٹوٹے پھر نہ اک پل بھی
مگر کچھ بھی نہیں ہوتا
تو کر لیتے ہیں سمجھوتا
کوئی دل میں بلکتا ہے
کوئی پہروں سلگتا ہے
جب اپنا کام کر کے ہم
پلٹتے ہیں تو آنکھیں نم
مکاں ویران ملتا ہے
بہت بے جان ملتا ہے
خوشی معدوم رہتی ہے
فضا مغموم رہتی ہے
بڑے رنجور کیوں نہ ہوں
بڑے مجبور کیوں نہ ہوں
اوائل میں مہینے کے
سب اپنے خوں پسینے کے
جو پیسے جوڑ لیتے ہیں
گھروں کو بھیج دیتے ہیں
اور اپنے خط میں لکھتے ہیں
ہم اپنا دھیان رکھتے ہیں
بڑی خوش بخت گھڑیاں ہیں
یہاں خوشیاں ہی خوشیاں ہیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






