جو ہے حقیت تیری وہ پریشان دل سب کچھ بتا گیا
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaبندش کہاں کی یہ ہے بندش کہ ستارا بھی ڈگماگا گیا
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں کیا نہ کچھ بنا گیا
حال کی چہل پہل میں ماضی کہاں سے آگیا
یہ میرے نصیب کے ہیں فصلے مستقبل میں بہت کچھ سما گیا
یہ چیس لگی یہ سسکیاں یہ میرے درد کا کمال ہے
جو دیکھا نہ سکی جبین خاص وہ منظر پے خود کچھ آگیا
بھلا کیا سناؤں تجھے میں اب بھلا کیا ہوا تھا وہاں کب
وہ مجھ کو تسلی نہ دے سکا پس درد غم اور کچھ بڑھا گیا
اگر تم نہیں تو اور سہی اور نہیں تو اور سہی
تیری بےوفائی کے چرچے میرا خون جگر کچھ سنا گیا
یہ مثل طور ہے اس سے تو کوئی انکار نہیں
اک جھلک دیکھا کہ جہاں کا سب کچھ جلا گیا
اک اور بھی سناؤں میں اک بات اور پیرذادے سنو
جو ہے حقیت تیری وہ پریشان دل سب کچھ بتا گیا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






