جھلستے چہروں کو یاد رکھوں یا موسموں کا شباب دیکھوں
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKجھلستے چہروں کو یاد رکھوں یا موسموں کا شباب دیکھوں
نظر میں چہروں کی ذردیاں ہوں تو کیسے کھلتے گلاب دیکھوں
نہ دوست دشمن کی کوئی پہچاں ، نہ فرق اپنے پراۓ کا کچھ
ہر ایک چہرہ چھپا ہوا ہے میں کیسے زیرِ نقاب دیکھوں
بدلتے چہروں کو دیکھنے کا ابھی تجربہ نہیں ہے مجھ کو
سدا جو تھا مہربان مجھ پر میں کیسے اُس کا عتاب دیکھوں
ہر اِک قدم پر نئے حوادث ، ہر اِک قدم پر نئی کہانی
ملے جو فُرصت کا کوئی لمحہ تو زندگی کی کتاب دیکھوں
ہے زندگی پھر بھی خوبصورت اگرچہ اس میں نہ کچھ بچا ہو
جو چل پڑو ں تو ہر اِک قدم پر نیۓ نیۓ کھلتے باب دیکھوں
بدلتے لمحوں کے ساتھ شاید بدل رہی ہیں پرانی قدریں
جو نفس کا ہے غلام عذراؔ اُسی کو میں کامیاب دیکھوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






