جہیز-مفلس والدین کا بیا ں

Poet: ARIF KHAN SAIM By: ARIF KHAN, HYDERABAD

مسرور کیسے ہو سکے بیٹی کے لئے باپ
کردیا ہے جہیز نے مفلس کا خانہ خراب
بیٹھا ہے آستین میں بن کے سانپ
وحشت ہوتی ہے دیکھتے ہوئے خواب

زندگی مین کر سکے گا بیاہ بیٹی کا
لگائے سرمہ بیٹی خوشدامن کی مٹی کا

نانا کہلائے باپ اور نانی کہلائے ماں
اس قیاس میں جیتا ح ہر وقت بے گماں
عید کا چاند دیکھے بد نصیب کبھی
آئیں نواسی نواسہ اس کے قریب بھی

آتے ہیں یہ خیال تو ھوتا ہے بہت خوش
خوشی سے باچھیں کھل جاتی ہیں خوب

کھلتی ہے جو آنکھ تو خمار جاتا ہے ٹوٹ
ایسالگتا ہے جیسے گئی ہے تقدیر بھی روٹھ

پرنم نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آسماں
کرتا ہے خدا سے بس ایک ہی دعا
یارب کسی غریب کی بیٹی نہ ہو پیدا
ہوتا ہے صائم اکثر آ خر کیہوں ایسا

Rate it:
Views: 559
15 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL